آرمرڈ کار ایک کچھوے کی طرح ویران چوک کے عین درمیان میں آرام کر رہی تھی

آرمرڈ کار ایک کچھوے کی طرح ویران چوک کے عین درمیان میں آرام کر رہی تھی
0/5 No votes
Developer
--
--

Report this app

Description

آرمرڈ کار ایک کچھوے کی طرح ویران چوک کے عین درمیان میں آرام کر رہی تھی

بیروت – بادشاہ یا جوکر

دھاتی بدن میں قریبی کھمبے کی روشنی بجھ رہی تھی۔تقریبا دس گز کے فاصلے پر ایک ٹیلی فون بوتھ کا دروازہ کھلا تھا۔ ایک مسلح فوجی فون پر جھکا بیٹھی ہوئ آواز میں کسی سے بحث کر رہا تھا۔ ۔۔۔۔ میں فٹ پاتھ سے اتر کر چوک عبور کرنے لگا۔ ۔۔ فوجی نے گفتگو ختم کی ، بوتھ سے باہر آنے سے بیشتر اردگرد. کی بلند اور تاریک عمارتوں پر ایک نظر ڈالی اور آرمرڈ کار کی طرف چلنے لگا. ڈز۔۔۔۔ ایک فائر کی آواز آئ ، فوجی ٹھٹکا، میں بھی رک گیا، ایک اور ڈز ہوا ، میری آنکھیں پھیل گئیں. اور پھر اسی لمحے پورا چوک ایک ایسی بھٹی میں بدلا جس میں مکی کے ہزاروں دانے چٹخ رہے تھے۔ فوجی فون بوتھ کی طرف لپکا۔ میں ایک شاپنگ سینٹر کی جانب بھاگا۔۔۔۔ آرمرڈ کار کے کچھوے کی گردن اٹھی جو ایک مشین گن .کی نالی تھی اورنواحی عمارتوں پر گولیاں تھوکنے لگی۔

اور میں : مشین گن کے گرم لوہے سے بچنے کے لیے شاپنگ سنٹ کی طرف بھاگتا ہوا۔

کوہ لبنان تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف مذاہب کے باغی فرقوں کی پناہ گاہ رہا ہے۔ ان میں عیسائ مارونائٹ ، یونانی آرتھوڈاکس ، یونانی کیتھولک ، یہودی اور مسلمان شیعہ اور دروز شامل ہیں۔ 42ء میں جب ملک ایک وحدت کی صورت میں سامنے آیا تو ایک قدیم مردم شماری کے حوالے سے طے کیا گیا کہ مستقبل میں پارلیمنٹ کا سپیکر شیعہ ہوگا ، وزیر اعظم سنی مسلمان اور صدر عیسائیوں میں سے چنا جاے گا 70 ء میں جب فلسطینی لبنان میں داخل ہوے تو ان کی آمد سے مسلمانوں اور ترقی پسند عیسائیوں کو قوت حاصل ہوگئی ۔

مزید پڑھیں۔۔ہم یوٹیوب پر کامیاب کیوں نہیں ہوتے ہیں

مسلمانوں نے مطالبہ کیا کہ مردم شماری دوبارہ کی جاے کیونکہ آبادی میں ان کا تناسب ستر فیصد تک پہنچ  ہے۔ اور وہ اسی حساب سے حکومت میں نمائندگی چاہتے ہیں۔ فلسطینیوں کی مسلح موجودگی ان کا ٹرمپ کارڈ ہے۔ ادھر عیسائیوں کی کوشش ہیں کہ دستور میں ایسی ترامیم کروائ جائیں جن کے تحت مردم شماری بالکل نہ ہو اور موجودہ صورت حال ہمیشہ کے لیے برقرار رہے۔ ان کی دہشت کا بنیادی نشانہ فلسطینی ہیں اور یوں تنظیم آذادی نہ چاہتے ہوے بھی اس خانہ جنگی میں الجھ گئی ہے۔

چنانچہ اب لبنانی حکومت اور دائیں بازو کی جماعتیں ایک طرف ہیں اور لبنانی مسلمان ، فلسطینی ، اور ترقی پسند عیسائ دوسری جانب ۔۔۔ فوج بکھر چکی ہے ، ہر گروہ نے اپنی الگ ملیشیاء بنا رکھی ہے۔ دن کے وقت شہر ایک دکھائ دیتا ہے مگر رات کو چھوٹی چھوٹی مسلح ریاستوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ ۔۔۔ عیسائیوں نے لبنان کی تقسیم کا شوشہ بھی چھوڑا ہوا ہے اور چرچ بھی اس سازش میں ملوث ہے۔

مزید پڑھیں۔۔مجھے ایسے ڈرامے ویسے بھی پسند رہے ہیں

روشے کے فٹ پاتھ پر چلتے ہوے جب میں ساحلی سڑک کے اختتام پر پہنچاتو بتدریج گہری ہوتی ہوئ شام میں دو آرمرڈ کاریں سڑک کے درمیان میں کھڑی نظر آئیں۔ ان کے سوراخوں میں سے مشین گنوں کی بوتھیاں جھانک رہی تھیں۔ اور اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ روشے کی رونق ایک سراب ہےجو صرف میری آنکھیں دیکھتی ہیں۔ ورنہ اس پر چہل قدمی کرتے اہل بیروت اپنے اندر آرمرڈ کاروں کی سیاہ شبیہیں لیے پھرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہیں کہ کھیل شروع ہونے کو ہے۔ وہ اپنے اپنے پتے سنبھالے انتظار کر رہے ہیں۔ کس کے ہاتھ میں بادشاہ ہے، کس کے ہاتھ میں جوکر ہے، کوئ نہیں جانتا ، کھیل شروع ہوگا تو پتہ چلے گا- بازی جان کی ہوگی ، سب انتظار میں ہیں۔

انتساب : خانہ بدوش از مستنصر حسین تارڑ
انتخاب : ضیاءالدین بلوچ

Share with Friends

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *